15 جولائی 2012 - 16:15

امریکی چینل سی بی ایس کے نامہ نگار "ڈان ریوو" نے اپنی کتاب میں ایرانی سائنسدانوں کے قتل میں اسرائیل کے براہ راست ملوث ہونے کےبارے میں مزید جزئیات کا انکشاف کیا ہے ۔

ابنا: ڈان ریوو نے سی ان ان نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہو‎ۓ ایرانی سائنسدانوں کے قتل میں ملوث موساد کے قاتل دستوں کا راز فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اب تک اسرائیل نے جنگ ، پابندی یا گفتگو جیسی راہوں میں سے اب تک کسی بھی ایک راہ کا انتخاب نہیں کیا ہے بلکہ ایران کے خلاف مخفیانہ اقدامات انجام دے رہی ہے ان میں سے بعض اقدامات وہ ہیں جو تہران میں انجام دئیے گئے ہیں۔اس کتاب کے مولف نے موساد کی بعض کارکردگیوں منجملہ بیروت اور دمشق میں انجام دی جانے والی کاروائیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے جاسوسی ادارے ایک دوسرے کا تعاون کرکے ایران کے ایٹمی پروگرام کی ترقی وپیشرفت کو روکنے کے در پے ہیں ۔اوراس تعاون میں اسٹاکس نٹ وائرس اور ایرانی سائنس دانوں کے ٹارگٹ کلنگ کے لئے معلومات فراہم کررہے ہیں ۔
 
ڈان ریوونے ایران کے خلاف سائبر حملہ کرنے کے سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کے تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوے  کہا کہ اسرائیل کی جاسوسی تنظیم " امان ' اور امریکہ کی جاسوسی تنظیم " این  ایس آئی نے ایک دوسرے کےتعاون سے اسٹاک نیٹ وائرس تیار کیا ہے۔
 
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں، ایک سکے کے در رخ ہیں کیونکہ دونوں ایک ہی راستے اور ایک ہی مقصد کی جانب قدم بڑھائے ہوئے ہیں جیسا کہ اوباما نے اسرائیل کو بارہا اطمینان دلایا ہے کہ امریکہ اوراسرائیل دونوں ایک درسرے کا اٹوٹ حصہ ہیں اور یہ تمام تعاون اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں ۔
 
در حقیقت یہ بات ہم بہت آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ علاقے میں ایران کی عظمت و رعب اور دبدبہ، اوراسی طرح عظیم رونماہونے والی اسلامی بیداری کی لہریں ، مشرق وسطی میں امریکہ کی مخاصمانہ پالیسیوں کی شکست اور اسرائیل کی متزلزل صورتحال کے بارے میں تشویش ہی، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ یکجہتی کی تقویت کی اصل وجہ ہیں۔ اگر چہ اوباما ظاہری طور پر اس بات کو ترجیح دے رہا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا براہ راست ساتھ دینے کے بجائے اس حکمت عملی کو اپنا‎ئے کہ ایران کے سلسلےمیں تمام آپشنزکو نظر میں رکھے گا البتہ امریکہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ ایران کے خلاف یہ الزام لگانا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے ایک کھلم کھلا جھوٹ ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ امریکہ خود بھی ان پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس کے علاوہ ،ایٹمیی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا پابند ہونے کے باوجود  اس نے سیکڑوں ارب ڈالر نئے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے مختص کئے ہیں۔
 
اسی طرح امریکہ نے اسرائیل کو ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اس وقت اس حکومت کے پاس تین سو سے زائد ایٹمی وار ہیڈ موجود ہی جس سےمشرق وسطی کی امن وسلامتی کو خطرہ لاحق ہے ۔
 
ایسے حالات میں صہیونی ریاست کے اعلی حکام  ایک جانب ایران کے خلاف لفاظی جنگ جیسی اسٹراٹیجک اپنائے ہوئے ہے  تو دوسری جانب امریکہ کے معین کردہ اہداف کا ساتھ دے کر ایران کے مسالمت آمیز ایٹمی ہتھیاروں کی ترقی و پیشرفت کی رکاوٹ کا زمینہ فراہم کررہے ہیں ۔
 
صہیونی ریاست کے اعلی حکام ، امریکہ کی مشرکہ پالیسیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ایرانی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ایران کے سائبر پر اسٹاکس وائرس جیسا بدترین حملہ کرکے ایران کی ترقی و پیشرفت میں رکاوٹ کھڑی کرنے کے درپے ہیں اوراس پالیسی کی تائید کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے وزیر خارجہ لیبرمن نے گزشتہ فروری میں اپنے امریکی دورےکے موقع پر کہا تھا کہ اسرائیل کے پاس بہت سے آپشنز موجود ہیں۔
 
اسرائیل کے آپشنز میں سے ایک  آپشنز خوف ہراسی اور قتل و غارتگری ہے بہت سے شواہد و اسناد سے پتہ چلتاہے کہ موساد اسرائیلی حکومت کی ترقی کے لئے ہی ایرانی سائنسدانوں کو قتل کررہی ہے اور دو برس سے بھی کم کے عرصے میں چار ایرانی سائنسدانوں کو قتل کیا ہے۔
.......
 /169